عابد شیر علی کا کہنا ہے کوئی بھی ذی شعور پاکستانی اسلام آباد کو تباہ کرنے یا انتشار پھیلانے کی بات نہیں کر سکتا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا سیاسی ورکرز کی گرفتاریوں کے ہم حامی نہیں لیکن جب ڈنڈوں، بندوقوں اور شیلنگ کے ساتھ چڑھائی کی جائے اور لاشیں گرانے کے بیانات دیے جائیں تو حکومت کے لیے امن و امان قائم رکھنا اولین ترجیح بن جاتا ہے۔ ملک مزید انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا، ریاست کا تحفظ ہر چیز پر مقدم ہے۔
عابد شیر علی نے مزید کہا تحریک انتشار سے آپ کبھی امن کی ، بات چیت کی ، ترقی کی توقع نہیں رکھ سگتے ان کا مقصد تباہی سے تباہی تک ہے وہ چاہے حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں ، اس لئے جنید اکبر کا اسلام آباد کو سومنات بنانے کا بیان حیران کن نہیں ہے ، یہ لوگ بدقسمتی سے اس ملک کو نقصان پہنچانے کے علاوہ کچھ نہیں کر سگتے اور نا ہی اس لئے آئے ہیں 2013 سے آج تک کی تاریخ ان کے سیاہ کارناموں اور کالے کرتوتوں سے بھری ہوئی ہے ۔