تحریر: معظم علی عزمی
کبھی کبھی تاریخ کسی قوم کو ایسا زخم دیتی ہے جس کا علاج نسلوں تک ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ شہر ملبے میں تبدیل ہو جاتے ہیں، معیشت زمین بوس ہو جاتی ہے، لاکھوں خواب دفن ہو جاتے ہیں اور قوم کے پاس مستقبل کے نام پر صرف ایک سوال باقی رہ جاتا ہے:
اب ہم دوبارہ کیسے کھڑے ہوں گے؟
جاپان نے اس سوال کا جواب صرف الفاظ سے نہیں دیا۔
اس نے اپنے ملبے سے ایک نیا ملک تعمیر کیا۔
دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر جاپان شکست خوردہ تھا۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں نے تاریخ کا ایک ایسا باب رقم کیا جس کی ہولناکی آج بھی انسانیت کو لرزا دیتی ہے۔ جنگ نے جاپان کے شہروں، صنعتوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ ملک اقتصادی مشکلات میں گھرا ہوا تھا اور اس کا مستقبل غیر یقینی نظر آتا تھا۔
دنیا کے سامنے ایک تباہ حال جاپان تھا۔
لیکن جاپانی قوم کے سامنے ایک اور چیز بھی تھی:
دوبارہ تعمیر کا فیصلہ۔
یہیں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔
جاپان نے اپنی شکست کو اپنی شناخت نہیں بننے دیا۔
یہ شاید جاپان کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔
ایک قوم جنگ ہار سکتی ہے، لیکن اگر وہ اپنے حوصلے، نظم و ضبط اور سیکھنے کی صلاحیت کو شکست نہ دے تو اس کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوتی۔
جاپان نے ماضی کو صرف رونے کے لیے نہیں دیکھا، بلکہ اس سے سیکھنے کے لیے دیکھا۔
اس نے اپنی معیشت کو دوبارہ منظم کیا۔ صنعت کو جدید بنایا۔ تعلیم کو اہمیت دی۔ تحقیق اور ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کی۔ معیارِ پیداوار کو اپنی شناخت بنایا۔
دنیا نے جلد ہی محسوس کیا کہ جو ملک کل جنگ کے ملبے میں کھڑا تھا، وہ آج صنعت کے میدان میں مقابلہ کر رہا ہے۔
پھر ایک ایسا وقت آیا جب جاپان کی مصنوعات دنیا بھر کے بازاروں میں پہنچنے لگیں۔
جاپانی گاڑیاں، کیمرے، الیکٹرانکس، مشینری اور صنعتی مصنوعات عالمی معیار کی علامت بننے لگیں۔
لیکن جاپان کی کامیابی صرف کارخانوں کی کہانی نہیں تھی۔
یہ ذہن کی تبدیلی کی کہانی تھی۔
جاپان نے یہ سمجھ لیا تھا کہ کسی قوم کی اصل طاقت اس کے قدرتی وسائل سے زیادہ اس کے انسانی وسائل میں ہوتی ہے۔
ایک ملک کے پاس تیل نہ ہو، سونا نہ ہو، بڑے معدنی ذخائر نہ ہوں، مگر اگر اس کے پاس تعلیم یافتہ، ہنرمند، ذمہ دار اور محنتی انسان ہوں تو وہ دنیا میں اپنا مقام بنا سکتا ہے۔
جاپان اس کی ایک بڑی مثال ہے۔
وہاں وقت کی پابندی کو معمولی عادت نہیں سمجھا گیا۔ کام کے معیار کو اہمیت دی گئی۔ اجتماعی ذمہ داری کو معاشرتی قدر بنایا گیا۔ صفائی کو صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں سمجھا گیا۔ ٹرین سے لے کر فیکٹری تک، اسکول سے لے کر دفتر تک، ہر جگہ نظم و ضبط کو ترقی کے بنیادی حصے کے طور پر دیکھا گیا۔
یہی چھوٹی چھوٹی عادتیں مل کر ایک بڑی قومی طاقت بن گئیں۔
دنیا اکثر ترقی کی بلند عمارت دیکھتی ہے، مگر اس عمارت کی بنیاد میں چھپی ہوئی عادتیں نہیں دیکھتی۔
جاپان کی بنیاد میں بھی یہی عادتیں تھیں۔
وقت کی قدر۔ کام کی عزت۔ قانون کی پابندی۔ تعلیم کی اہمیت۔
اور مسلسل بہتری کی خواہش۔
جاپان نے “کامل” بننے کے بجائے “کل سے بہتر” بننے کی کوشش کی۔
یہ فرق معمولی نہیں۔
دنیا میں بہت سی قومیں بڑی بڑی تقریریں کرتی ہیں۔ ترقی کے منصوبے بناتی ہیں۔ نئے نعروں کا اعلان کرتی ہیں۔ مگر جاپان نے اپنی ترقی کو نعروں سے زیادہ روزمرہ کے معمولات میں تبدیل کیا۔
ایک جاپانی طالب علم کے لیے تعلیم صرف امتحان پاس کرنے کا ذریعہ نہیں تھی۔
ایک کارکن کے لیے کام صرف تنخواہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھا۔
ایک ادارے کے لیے معیار صرف اشتہار کا جملہ نہیں تھا۔
یہ سب قومی ثقافت کا حصہ بنتے گئے۔
پھر جاپان نے ٹیکنالوجی کو اپنی طاقت بنایا۔
روبوٹکس، الیکٹرانکس، آٹوموبائل، صنعتی تحقیق اور جدید انجینئرنگ میں اس نے دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
لیکن اس سفر میں ایک اور سبق بھی چھپا ہوا ہے۔
جاپان نے صرف دوسروں کی نقل نہیں کی؛ اس نے سیکھ کر اپنی ضرورت کے مطابق بہتر بنایا۔
دوسری قوموں کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا، مگر معیار اور جدت کو اپنی پہچان بنایا۔
یہی وجہ ہے کہ “Made in Japan” ایک وقت میں عالمی معیار کی علامت بن گیا۔
لیکن کیا جاپان کی کہانی صرف کامیابی کی کہانی ہے؟
نہیں۔
جاپان نے بھی مشکلات دیکھیں۔ معاشی بحران آئے۔ آبادی کے مسائل سامنے آئے۔ قدرتی آفات نے بار بار امتحان لیا۔ زلزلوں اور سونامی نے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔
لیکن ہر بار ایک سوال سامنے آیا:
ہم دوبارہ کیسے کھڑے ہوں گے؟
اور ہر بار جاپانی معاشرے نے کسی نہ کسی شکل میں یہی جواب دیا:
مل کر۔ نظم کے ساتھ۔ اور ہمت کے ساتھ۔
2011 کا زلزلہ اور سونامی اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ تباہی بہت بڑی تھی، مگر دنیا نے جاپانی معاشرے میں نظم، تحمل اور اجتماعی ذمہ داری کے ایسے مظاہر دیکھے جنہوں نے پوری دنیا کو متاثر کیا۔
یہاں ہمیں ایک لمحے کے لیے اپنے معاشرے کی طرف بھی دیکھنا چاہیے۔
ہم اکثر پوچھتے ہیں کہ جاپان ہم سے آگے کیوں نکل گیا؟
لیکن شاید سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جاپان ہم سے آگے کیسے نکل گیا؟
سوال یہ ہونا چاہیے:
ہم نے اپنی رفتار خود کیوں روک رکھی ہے؟
ہمارے پاس نوجوان آبادی ہے۔ ہمارے پاس ذہین لوگ ہیں۔ ہمارے پاس کاروباری صلاحیت رکھنے والے افراد ہیں۔ ہمارے نوجوان دنیا بھر میں اپنی قابلیت منوا رہے ہیں۔ پاکستان کے لوگ ٹیکنالوجی، طب، انجینئرنگ، کاروبار، تعلیم اور مختلف شعبوں میں دنیا کے بہترین اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مسئلہ صلاحیت کی کمی نہیں۔
مسئلہ اس صلاحیت کو ایک مضبوط قومی نظام میں تبدیل کرنے کا ہے۔
جاپان ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ ہر ملک کو جاپان بن جانا چاہیے۔
جاپان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قومیں وسائل سے نہیں، رویوں سے بھی بنتی ہیں۔
اگر ایک قوم وقت کی پابندی کو اہمیت دیتی ہے، قانون کا احترام کرتی ہے، تعلیم کو ترجیح دیتی ہے، ہنر کو عزت دیتی ہے، کام میں معیار پیدا کرتی ہے اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد سے اوپر رکھنے کی کوشش کرتی ہے تو وہ مشکلات کے باوجود آگے بڑھ سکتی ہے۔
جاپان کے پاس جنگ کے بعد بہت کچھ نہیں بچا تھا۔
لیکن اس کے پاس ایک چیز باقی تھی:
اس کے لوگ۔
اور شاید یہی کسی بھی قوم کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتا ہے۔
عمارتیں دوبارہ بن سکتی ہیں۔ سڑکیں دوبارہ تعمیر ہو سکتی ہیں۔
فیکٹریاں دوبارہ لگ سکتی ہیں۔ معیشت دوبارہ کھڑی ہو سکتی ہے۔
لیکن اگر قوم کے اندر سے امید ختم ہو جائے تو ترقی کے تمام منصوبے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ جاپان نے امید کو زندہ رکھا۔
اور پھر اسی امید کو محنت میں تبدیل کیا۔
اسی لیے آج جب ہم جاپان کو دیکھتے ہیں تو ہمیں صرف ٹیکنالوجی، تیز رفتار ٹرینیں، جدید شہر اور بڑی صنعتی کمپنیاں نظر نہیں آنی چاہئیں۔
ہمیں اس جاپان کے پیچھے کھڑی ہوئی ایک قوم نظر آنی چاہیے جو کبھی ملبے میں کھڑی تھی۔
ایک ایسی قوم جس نے شکست کو آخری باب نہیں سمجھا۔
یہی شاید جاپان کا سب سے بڑا سبق ہے:
تباہی انسان کو ختم نہیں کرتی، اگر انسان تباہی کے بعد دوبارہ تعمیر کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔
آج دنیا مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، جدید صنعت اور نئی ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ آنے والے وقت میں وہی قومیں آگے بڑھیں گی جو اپنے نوجوانوں کو صرف ڈگریاں نہیں بلکہ علم، ہنر، کردار، تحقیق اور تخلیقی سوچ دیں گی۔
پاکستان کے لیے بھی یہ وقت سوچنے کا ہے۔
ہم کب تک اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار صرف حالات کو ٹھہراتے رہیں گے؟
ہم کب تک یہ کہتے رہیں گے کہ ہمارے پاس وسائل نہیں؟
شاید ہمیں ایک دن یہ سمجھنا ہوگا کہ قوم کی تقدیر صرف زمین کے نیچے موجود خزانے نہیں بدلتے، بلکہ زمین کے اوپر موجود انسان بدلتے ہیں۔
جاپان نے ملبے سے آغاز کیا تھا۔
اس نے دنیا کو یہ ثابت کر دیا کہ قوم اگر اپنے انسان کو سرمایہ سمجھ لے تو تباہی بھی مستقل نہیں رہتی۔
اور شاید ہمارے لیے جاپان کی سب سے بڑی کہانی اس کی ترقی نہیں، بلکہ اس کا وہ فیصلہ ہے جو تباہی کے بعد کیا گیا تھا:
ہم ختم نہیں ہوئے۔
ہم دوبارہ تعمیر کریں گے۔
اور یہی وہ لمحہ تھا جہاں ایک شکست خوردہ ملک نے اپنے مستقبل کی بنیاد رکھ دی۔