از قلم: نمرہ چودھری
کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ تم کون ہو؟ تو میں کیا جواب دوں گی؟
کیا میں اپنا نام بتاؤں گی؟ اپنی عمر، اپنی تعلیم، اپنی پسند ناپسند یا اپنے خواب؟
شاید نہیں۔
کیونکہ انسان صرف اپنے نام، عمر اور تعارف کا مجموعہ نہیں ہوتا۔ انسان تو ان تمام تجربات کا نام ہے جو اسے اندر سے بدلتے رہتے ہیں۔ میں بھی شاید ایسی ہی ایک کہانی ہوں، جسے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ تھوڑا تھوڑا سمجھ رہی ہوں۔
بچپن میں زندگی بہت آسان لگتی تھی۔ خوشی کے لیے کسی بڑی وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ ایک چھوٹی سی چیز مل جاتی تو پورا دن خوشی سے گزر جاتا۔ کسی کے ساتھ کھیل لینا، پسند کی کوئی چیز کھا لینا، بارش دیکھنا یا گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر ہنسنا ہی زندگی کا سب سے خوبصورت حصہ محسوس ہوتا تھا۔
تب مجھے معلوم نہیں تھا کہ وقت اتنی تیزی سے بدلتا ہے اور اس کے ساتھ انسان کی ترجیحات بھی۔ بچپن میں ہمیں لگتا تھا کہ بڑے ہو کر زندگی بہت آسان ہو جائے گی، لیکن بڑے ہو کر معلوم ہوا کہ زندگی تو ایک ایسا امتحان ہے جس کا سلیبس بھی مکمل نہیں ہوتا اور پرچے بھی اچانک آ جاتے ہیں۔
پھر میں بڑی ہونے لگی۔ خواب بھی بڑے ہونے لگے اور ان کے ساتھ ذمہ داریاں بھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ زندگی صرف خواہش کرنے کا نام نہیں، بلکہ خواہشوں کے لیے محنت کرنے کا نام بھی ہے۔
شاید اسی سوچ نے مجھے یہ سکھایا کہ اپنے خوابوں کو صرف سوچتے رہنے کے بجائے ان کے لیے عملی قدم اٹھانا ضروری ہے۔ اسی لیے میں نے اپنی تعلیم کے ساتھ ہی 25 September 2022 سےاپنے پروفیشنل کیریئر کا آغاز کیا۔ میرا پہلا باقاعدہ پیشہ ورانہ سفر ایک نجی اسکول سے شروع ہوا، جہاں میں نے تین سال کام کیا۔
یہ میرے لیے صرف ایک ملازمت نہیں تھی، بلکہ سیکھنے، خود کو پہچاننے اور اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کا ایک نیا مرحلہ تھا۔ پڑھائی کے ساتھ کام کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ایک طرف اسائنمنٹس اور امتحانات، دوسری طرف ملازمت کی ذمہ داریاں؛ کبھی کبھی تو محسوس ہوتا تھا کہ دن میں چوبیس نہیں، کم از کم چھتیس گھنٹے ہونے چاہییں!
لیکن شاید یہی وہ وقت تھا جب میں نے جانا کہ انسان اگر واقعی کچھ کرنا چاہے تو وہ اپنی مصروفیات کے درمیان بھی اپنے لیے راستے نکال لیتا ہے۔
اس اسکول میں میرا ایک سال مکمل ہوا تو مجھے ٹیچر سے کوآرڈینیٹر کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ یہ میرے لیے بے حد خوشی اور فخر کی بات تھی۔ کم عمری میں یہ ذمہ داری ملنا میرے لیے اس بات کا ثبوت تھا کہ محنت کبھی کبھی اپنی پہچان خود بنا لیتی ہے۔
تب مجھے پہلی بار شدت سے محسوس ہوا کہ کامیابی کے لیے عمر ہمیشہ سب سے اہم شرط نہیں ہوتی۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ کتنی محنت کرتے ہیں، کتنی ذمہ داری سے کام کرتے ہیں اور اپنے اندر سیکھنے کی کتنی گنجائش رکھتے ہیں۔
میں نے محسوس کیا کہ اگر انسان اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھے اور مسلسل محنت کرتا رہے تو کم عمری اس کی راہ میں رکاوٹ بننے کے بجائے اس کی پہچان بھی بن سکتی ہے۔
لیکن کہانی کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی تھا کہ کچھ لوگوں کو میری کامیابی کے پیچھے میری محنت سے زیادہ میرا لَک نظر آتا تھا۔
شاید انہیں لگتا تھا کہ میری قسمت کچھ زیادہ ہی مہربان ہے۔ حالانکہ قسمت اچھی ہونا اپنی جگہ، مگر اس کے ساتھ محنت کی ایک لمبی فہرست بھی ہوتی ہے جسے اکثر لوگ دیکھنا بھول جاتے ہیں۔
خیر، میں نے آہستہ آہستہ یہ سمجھا کہ ہر شخص کو اپنی کامیابی کے پیچھے چھپی محنت دکھانا ضروری نہیں۔ کچھ لوگ نتیجہ دیکھتے ہیں، کچھ سفر؛ اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو نتیجہ دیکھ کر بھی یہی کہتے ہیں کہ قسمت اچھی تھی!
اس دوران میں نے بہت کچھ سیکھا، بہت سے تجربات حاصل کیے اور سب سے بڑھ کر وہاں کے بچوں سے ایک خاص تعلق قائم ہو گیا۔ جب میرے دو سال مکمل ہوئے تو مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ وقت کب گزر گیا۔ کچھ جگہیں انسان کے لیے صرف کام کی جگہ نہیں رہتیں، وہ اس کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔
میرے لیے بھی وہ اسکول کچھ ایسا ہی تھا۔
مجھے وہاں سے بہت سی ملازمتوں کے مواقع ملے، لیکن میرا ذہن یہی کہتا تھا کہ میں یہ اسکول نہیں چھوڑوں گی۔ اس کی وجہ صرف میری ملازمت یا وہاں کا ماحول نہیں تھا، بلکہ وہ چھوٹے چھوٹے بچے تھے جن سے مجھے ایک خاص لگاؤ ہو گیا تھا۔
ان بچوں کی معصوم باتیں، ان کی چھوٹی چھوٹی شرارتیں، ان کا بے ساختہ ہنسنا اور کبھی کبھی ایسی معصوم منطق پیش کرنا کہ بڑے بڑے فلسفی بھی سوچ میں پڑ جائیں، میرے دن کا اہم حصہ بن چکا تھا۔
بچے آپ کو صرف پڑھنا لکھنا نہیں سکھاتے، وہ آپ کو زندگی کو ایک مختلف نظر سے دیکھنا بھی سکھاتے ہیں۔ ان کے لیے آپ صرف ٹیچر یا کوآرڈینیٹر نہیں ہوتے، بلکہ کبھی ان کی پسندیدہ شخصیت، کبھی ان کی شکایت سننے والی عدالت اور کبھی ان کے کسی مسئلے کا واحد حل ہوتے ہیں۔
اور بعض اوقات تو آپ کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ آپ پڑھا کیا رہی ہیں اور بچے آپ سے پوچھ کیا رہے ہیں!
شاید اسی لیے وہاں سے آگے بڑھنے کا خیال میرے لیے آسان نہیں تھا۔ انسان جب کسی جگہ سے وابستہ ہو جائے تو وہاں سے نکلنے کا فیصلہ صرف ایک ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ نہیں رہتا، بلکہ اپنی روزمرہ زندگی کے ایک خوبصورت حصے سے دور ہونے کا نام بھی بن جاتا ہے۔
لیکن زندگی کا ایک اصول ہے: محبت اور وابستگی اپنی جگہ، مگر آگے بڑھنے کی ضرورت اپنی جگہ۔
پھر میں نے زندگی کا ایک اور رخ دیکھا۔ میں نے محسوس کیا کہ جہاں آپ کو سراہنے والے لوگ ہوتے ہیں، وہاں بعض اوقات ایسے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں جو آپ کی ترقی کو اپنے لیے خطرہ سمجھنے لگتے ہیں۔
شاید انہیں خوف ہوتا ہے کہ کہیں آپ کی محنت، آپ کی صلاحیت یا آپ کو ملنے والی ذمہ داریاں ان کی اپنی حیثیت پر سوال نہ اٹھا دیں۔ ایسے میں بعض لوگ آپ کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے آپ کو پیچھے کھینچنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔
یہ رویہ کسی ایک ادارے تک محدود نہیں۔ بعض جگہوں پر کام سے زیادہ تعلقات، قابلیت سے زیادہ سیاست اور کارکردگی سے زیادہ تاثر اہم ہو جاتا ہے۔
لیکن میں نے وقت کے ساتھ یہ سیکھا کہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی خاموشی کمزوری نہیں، بلکہ اپنی توانائی کو غیر ضروری بحثوں سے بچانے کا نام ہوتی ہے۔
ہر شخص کو اپنی نیت سمجھانا، ہر الزام کا جواب دینا اور ہر غلط فہمی دور کرنا اگر زندگی کا مقصد بنا لیا جائے تو انسان اپنے اصل مقصد سے ہی دور ہو جاتا ہے۔
اور پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب آپ کو سمجھ آ جاتا ہے کہ آپ کی منزل کسی کو غلط ثابت کرنا نہیں، بلکہ خود کو بہتر بنانا ہے۔
مجھے بعض اوقات محسوس ہوتا تھا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں نے کوئی بہت بڑی دوڑ جیت لی ہے اور اب ان کے لیے خطرہ بن چکی ہوں۔ حالانکہ دل چاہتا تھا کہ انہیں کوئی بتائے کہ جناب، میں نے تو ابھی دوڑ میں باقاعدہ وارم اَپ بھی مکمل نہیں کیا!
خیر، زندگی میں ہر شخص کی سوچ کو بدلنا ہمارے اختیار میں نہیں، لیکن اپنی سمت کا انتخاب ضرور ہمارے اختیار میں ہے۔
اسی دوران میں نے محسوس کیا کہ مجھے ایک مقام پر رک نہیں جانا چاہیے۔ اگر میں مزید سیکھ سکتی ہوں، اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتی ہوں اور نئے مواقع حاصل کر سکتی ہوں تو صرف اس لیے آگے بڑھنے سے کیوں رکوں کہ میں پہلے سے کسی جگہ سے وابستہ ہوں؟ اس سفر کا اختتام 6 September 2025 کو ہوا۔
پھر مجھے ایک یونیورسٹی میں ملازمت کا موقع ملا اور میں نے As a Computer Instructor یکم جنوری 2026 سے وہاں شمولیت اختیار کر لی۔
یہ میرے لیے ایک نئے باب کا آغاز تھا۔ ایک ایسا مرحلہ جہاں مجھے نئے ماحول، نئی ذمہ داریوں اور نئے تجربات سے گزرنا تھا۔ میں اپنے ساتھ پچھلے سفر کی یادیں، سیکھے ہوئے اسباق اور وہ اعتماد لے کر آگے بڑھی جو وقت کے ساتھ میری شخصیت کا حصہ بن چکا تھا۔
یہاں مجھے علامہ اقبال کا ایک شعر بار بار یاد آتا ہے:
بادِ صبا مخالف سے نہ گھبرا اے عقابؔ
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
زندگی میں مخالفت، مشکلات اور غیر متوقع حالات ہمیشہ ہماری راہ روکنے نہیں آتے۔ بعض اوقات یہی چیزیں ہمیں اپنی طاقت پہچاننے، اپنی سمت درست کرنے اور پہلے سے زیادہ مضبوط بننے کا موقع دیتی ہیں۔
میں نے بھی یہی سیکھا کہ اگر راستے میں رکاوٹیں آ رہی ہیں تو ضروری نہیں کہ سفر ختم کر دیا جائے۔ کبھی راستہ بدلنا پڑتا ہے، کبھی رفتار کم کرنا پڑتی ہے اور کبھی نئے حوصلے کے ساتھ دوبارہ آغاز کرنا پڑتا ہے۔
کچھ خواب ایسے تھے جنہیں میں نے بہت یقین سے دیکھا، مگر وہ پورے نہ ہو سکے۔ شروع میں ان خوابوں کا ٹوٹنا بہت برا لگا۔ یوں محسوس ہوا جیسے شاید میں ناکام ہو گئی ہوں۔ مگر وقت نے مجھے ایک عجیب بات سکھائی؛ ہر ادھورا خواب ہماری شکست نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی زندگی ہمیں ایک راستے سے اس لیے ہٹاتی ہے کہ ہمارے لیے کوئی دوسرا راستہ رکھا ہوتا ہے۔
میں نے یہ بھی سیکھا کہ ہر شخص جو ہمارے ساتھ چلتا ہے، ضروری نہیں کہ آخری منزل تک بھی ساتھ رہے۔ کچھ لوگ زندگی میں آتے ہیں، ہمیں کچھ سکھاتے ہیں اور پھر خاموشی سے ہماری کہانی کا ایک باب بن کر رہ جاتے ہیں۔
کبھی کسی کی جدائی نے مجھے رلایا، کبھی کسی کے رویے نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا اور کبھی کسی کے ایک چھوٹے سے جملے نے مجھے اپنے بارے میں کچھ نیا سمجھا دیا۔
میں نے لوگوں کو بھی بدلتے دیکھا اور خود کو بھی۔
ایک وقت تھا جب میں ہر کسی کو خوش رکھنے کی کوشش کرتی تھی۔ مجھے ڈر لگتا تھا کہ کہیں کوئی مجھ سے ناراض نہ ہو جائے۔ پھر آہستہ آہستہ سمجھ آیا کہ ہر شخص کو خوش رکھنا ممکن نہیں۔ اگر میں ہر کسی کی توقعات کے مطابق خود کو بدلتی رہی تو ایک دن شاید مجھے آئینے میں اپنا ہی چہرہ اجنبی لگنے لگے گا۔
تب میں نے خود سے دوستی کرنا شروع کی۔
یہ دوستی بھی آسان نہیں تھی۔
اپنی خامیاں دیکھنا، اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا، اپنی کمزوریوں کو قبول کرنا اور پھر بھی خود کو حقیر نہ سمجھنا بہت مشکل کام ہے۔ مگر شاید یہی خود کو ڈھونڈنے کا پہلا قدم ہے۔
میں نے جانا کہ مجھے کامل بننے کی ضرورت نہیں، مجھے بہتر بننے کی ضرورت ہے۔
آج بھی میرے اندر بہت سے خوف ہیں۔ کچھ سوال ایسے ہیں جن کے جواب مجھے نہیں ملے۔ کچھ خواب ابھی بھی ادھورے ہیں اور کچھ راستے ابھی میرے سامنے کھلے ہی نہیں۔ لیکن اب میں ان چیزوں سے پہلے جیسا خوفزدہ نہیں ہوتی۔
میں جانتی ہوں کہ زندگی ہمیشہ میری مرضی کے مطابق نہیں چلے گی، مگر میں یہ ضرور طے کر سکتی ہوں کہ بدلتے حالات کے سامنے میرا رویہ کیا ہوگا۔
میں اپنے کیریئر کو کسی ایک عہدے، کسی ایک ادارے یا کسی ایک کامیابی تک محدود نہیں کرنا چاہتی۔ میرے لیے کامیابی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آج میں کہاں کھڑی ہوں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کل میں خود کو کس مقام پر دیکھنا چاہتی ہوں۔
میں مزید سیکھنا چاہتی ہوں، مزید آگے بڑھنا چاہتی ہوں اور اپنی صلاحیتوں کو ایسے مواقع میں تبدیل کرنا چاہتی ہوں جو نہ صرف میری اپنی شخصیت کو نکھاریں بلکہ دوسروں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوں۔
میں چاہتی ہوں کہ میری پہچان صرف میرے موجودہ کام سے نہ ہو، بلکہ میری مسلسل محنت، میرے علم، میری تخلیقی صلاحیتوں اور میرے سیکھنے کے جذبے سے ہو۔
میں یہ بھی جانتی ہوں کہ اس سفر میں مزید مشکلات آئیں گی، نئے چیلنجز سامنے ہوں گے اور شاید کچھ لوگ پھر میری قسمت کو میری محنت سے زیادہ اہمیت دیں گے۔ لیکن اب میں ہر بار وضاحت دینے کے بجائے اپنے کام کو بولنے کا موقع دینا چاہتی ہوں۔
کیونکہ میں نے سمجھ لیا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی کامیابی دوسروں سے آگے نکلنا نہیں، بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے کل سے بہتر ہونا ہے۔
میں نے اپنی زندگی میں یہ بھی محسوس کیا کہ انسان کو سب سے زیادہ ضرورت کسی ایسے شخص کی نہیں جو اسے ہر وقت سہارا دے، بلکہ کبھی کبھی ایسے یقین کی ہوتی ہے جو اسے اپنے قدموں پر کھڑا رہنا سکھائے۔
اسی لیے اب میں اپنے آپ سے وعدہ کرتی ہوں کہ چاہے راستہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو، میں خود کو چھوڑوں گی نہیں۔
میں اپنی غلطیوں سے سیکھوں گی، اپنے خوابوں کے لیے کوشش کروں گی، جہاں ضروری ہوگا وہاں رکوں گی اور جہاں ضرورت ہوگی وہاں دوبارہ آغاز کروں گی۔
اور شاید میری زندگی کا سب سے خوبصورت حصہ یہ نہیں کہ میں نے اب تک کیا حاصل کیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ میں ابھی بھی سیکھ رہی ہوں۔
ابھی میں خود کو مکمل طور پر نہیں جانتی۔ ابھی بھی اپنے اندر چھپی ہوئی بہت سی خواہشوں، صلاحیتوں اور خوابوں سے میرا تعارف باقی ہے۔
شاید اسی لیے اگر آج کوئی مجھ سے پوچھے کہ “تم کون ہو؟” تو میرا جواب ہوگا:
“میں ایک مکمل کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسا صفحہ ہوں جس پر ہر نیا دن کچھ نیا لکھ رہا ہے۔ میں وہ لڑکی ہوں جس نے تعلیم کے ساتھ اپنے پروفیشنل سفر کا آغاز کیا، چھوٹی چھوٹی کامیابیوں سے حوصلہ حاصل کیا، بچوں سے محبت سیکھی، لوگوں کے رویوں سے سبق لیا اور ہر نئے موڑ پر خود کو پہلے سے بہتر بنانے کی کوشش کی۔
میں وہ نہیں جو آج حاصل کر چکی ہوں، بلکہ وہ بھی ہوں جو ابھی حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ میری منزل ابھی باقی ہے، میرے خواب ابھی زندہ ہیں اور میری کوشش ابھی جاری ہے۔
میں ابھی خود کو ڈھونڈ رہی ہوں، اور شاید یہی تلاش میری زندگی کی سب سے خوبصورت کہانی ہے۔”