تحریر:معظم علی عزمی
آنسو بھی عجیب شے ہیں؛ بظاہر پانی کے چند قطرے، مگر اپنے اندر ایک پوری کائنات سموئے ہوئے۔ کبھی یہ دل کی خاموش چیخ بن کر آنکھوں سے بہتے ہیں، کبھی کسی بچھڑے ہوئے شخص کی یاد میں پلکوں پر ٹھہر جاتے ہیں، اور کبھی ایسی خوشی کا اظہار ہوتے ہیں جسے الفاظ کا لباس پہنانا ممکن نہیں ہوتا۔
زندگی میں کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جنہیں زبان بیان نہیں کر سکتی۔ انسان محفل میں بیٹھا مسکراتا رہتا ہے، لوگوں کے ساتھ ہنستا بولتا ہے، مگر اس کے دل کے کسی کونے میں ایک ایسی اداسی بسی ہوتی ہے جس سے وہ خود بھی نظریں نہیں چرا سکتا۔ جب یہ اداسی حد سے بڑھ جاتی ہے تو آنکھیں خاموشی سے وہ کہہ دیتی ہیں جو لب عمر بھر کہنے سے قاصر رہتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب آنسوؤں کی گرمائش انسان کے اندر چھپے ہوئے درد کو چھو لیتی ہے۔
آنسوؤں کی گرمائش صرف آنکھوں تک محدود نہیں ہوتی، یہ روح کی گہرائیوں میں اتر کر انسان کو اس کے اپنے وجود سے ملواتی ہے۔ کبھی ایک گرم آنسو برسوں سے جمے ہوئے غم کو پگھلا دیتا ہے، کبھی کسی کی بے وفائی کی یاد دل کے زخموں کو تازہ کر دیتی ہے، اور کبھی کسی اپنے کی محبت یاد آتے ہی آنکھوں سے بہنے والے قطرے دل کو عجیب سا سکون عطا کرتے ہیں۔
عجیب بات ہے کہ دنیا آنسوؤں کو کمزوری سمجھتی ہے، حالاں کہ بعض اوقات رونا اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ انسان نے کتنے طوفان اپنے اندر چھپا رکھے ہیں۔ جو شخص سب کے سامنے مضبوط دکھائی دیتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ اندر سے بھی مضبوط ہو۔ بعض دل ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کو حوصلہ دیتے دیتے خود ٹوٹ جاتے ہیں، مگر اپنے ٹوٹنے کی آواز کسی کو سننے نہیں دیتے۔
کبھی سوچتا ہوں کہ آنسوؤں میں اتنی گرمائش کہاں سے آتی ہے؟ شاید اس لیے کہ یہ دل کے اس حصے سے جنم لیتے ہیں جہاں محبت بھی رہتی ہے، محرومی بھی، یادیں بھی اور وہ خواب بھی جو حقیقت کی دہلیز تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ ہر آنسو کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے، مگر افسوس کہ ہر کہانی سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔
اور پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب آنکھیں روتے روتے تھک جاتی ہیں۔ آنسو خشک ہو جاتے ہیں، مگر درد باقی رہتا ہے۔ انسان خاموش ہو جاتا ہے، مگر اس کی خاموشی میں ایک شور چھپا ہوتا ہے جسے صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس نے کبھی اپنے دل کو اپنی ہی آنکھوں کے سامنے بکھرتے دیکھا ہو۔
شاید آنسوؤں کی اصل گرمائش یہی ہے کہ یہ انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ وہ ابھی زندہ ہے، اس کے اندر احساس باقی ہے، محبت ابھی مری نہیں، اور دل ابھی پتھر نہیں بنا۔ کیونکہ جس دل میں درد محسوس کرنے کی صلاحیت باقی ہو، اس دل میں امید کا کوئی نہ کوئی چراغ ضرور روشن رہتا ہے۔
آنسو صرف آنکھوں سے نہیں بہتے، کبھی کبھی یہ روح کی وہ تحریر ہوتے ہیں جنہیں پڑھنے کے لیے لفظوں کی نہیں، احساس کی ضرورت ہوتی ہے