مودی کیخلاف سرگرم  سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں پر پھر قاتلانہ حملے کا خطرہ ہے، ایف بی آئی نے خبردار کردیا۔
’’جیو نیوز ‘‘ کے مطابق بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے سخت ناقد اور خالصتان تحریک کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو ایک بار پھر جان لیوا قاتلانہ حملے کے شدید خطرات کا سامنا ہے۔ 
امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی  کے اہلکاروں نے نیویارک میں گرپتونت سنگھ پنوں کی رہائش گاہ کا دورہ کر کے انہیں ان کی زندگی کو لاحق ’’فوری اور یقینی خطرے‘‘ کے بارے میں باضابطہ طور پر خبردار کیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’’سی بی ایس نیوز‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے گرپتونت سنگھ پنوں نے بتایا کہ ایف بی آئی حکام نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں ملنے والے سراغوں پر تحقیقات کر رہے ہیں۔ 
امریکی حکام کے مطابق یہ نیا خطرہ 18 اکتوبر کو کینیڈا میں ہونے والے ریفرنڈم میں شرکت کے لیے ان کے ممکنہ سفر سے متعلق ہے۔
واضح رہے کہ گرپتونت سنگھ پنوں کی تنظیم سکھس فار جسٹس 18 اکتوبر کو کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں بھارتی پنجاب کو آزاد ریاست خالصتان بنانے کے حق میں ایک غیر سرکاری ریفرنڈم کا انعقاد کرنے جا رہی ہے جس میں سکھ برادری کو ووٹ ڈالنے کی دعوت دی گئی ہے۔

اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ ’’اصل سوال یہ نہیں ہے کہ میں کسی اور قاتلانہ حملے سے بچ پاتا ہوں یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا سکھ قوم کے حقِ خودارادیت کو قتل کی دھمکیوں سے روکا جا سکتا ہے؟ اور میرا جواب ہے کہ اسے ہرگز نہیں روکا جا سکتا‘‘۔