صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے پنجاب اسمبلی کے ایوان سے بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت سنگھ مان کو لاہور آنے کی باضابطہ دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنے پنجابی بھائیوں کے استقبال کے لیے تیار ہے اور انہیں کھلے دل اور مسکراتے چہروں کے ساتھ خوش آمدید کہا جائے گا۔
پنجاب اسمبلی میں پنجابی زبان میں خطاب کرتے ہوئے سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے بھی بھگونت سنگھ مان کو لاہور آنے اور عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کو بھی کرتارپور صاحب کی یاترا کی دعوت دی۔

صوبائی وزیر نے عالمی پنجابی کانفرنس لاہور میں بھارتی پنجاب اسمبلی کے اراکین، اپوزیشن اور دیگر نمائندوں کی شرکت کی خواہش کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ لاہور سب کا ہے، سب کو یہاں آنا چاہیے اور پنجاب کی ثقافت، زبان اور مشترکہ ورثے کو فروغ دینا چاہیے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اسی ایوان میں اپنی پہلی تقریر کے دوران مذہبی اقلیتوں کو اپنے سر کا تاج قرار دیا تھا۔ آج ان کی قیادت میں اقلیتوں کے احترام، تحفظ اور مذہبی آزادی کے حوالے سے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اقلیتوں کو عزت اور اہمیت دے کر دنیا کے سامنے ایک مثبت مثال قائم کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سکھوں کا پہلا گھر پاکستان ہے اور سکھ برادری کا اس سرزمین سے رشتہ ناخن اور گوشت کی مانند ہے۔ کرتارپور صاحب سکھ مذہب کے پیروکاروں کے لیے غیرمعمولی مذہبی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے زائرین کو اپنے مذہبی مقامات تک رسائی اور عبادات کی ادائیگی کے لیے سہولتیں فراہم کرنا ضروری ہے۔ معاہدے کے تحت کرتارپور راہداری کے ذریعے روزانہ 5,000 زائرین کی آمد طے کی گئی تھی، تاہم بھارتی جانب سے یہ تعداد 500 تک محدود کر دی گئی۔ انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ کرتارپور راہداری کو کھلا رکھا جائے تاکہ سکھ یاتری بلا رکاوٹ اپنے مقدس مذہبی مقام کی زیارت کر سکیں۔

رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب بھر میں 50 گوردواروں، مندروں اور تاریخی گرجا گھروں کی بحالی کے اقدامات جاری ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ کی ہدایت پر قصور میں 10 سے زائد گوردواروں کی بحالی بھی عمل میں لائی گئی ہے۔ پنجاب حکومت مذہبی ہم آہنگی، بین المذاہب احترام اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں اقلیتوں کے تحفظ اور مذہبی آزادی کے لیے کیے جانے والے اقدامات ایک مثبت تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔

صوبائی وزیر نے اعلان کیا کہ 4 نومبر کو رحیم یار خان جبکہ 6 نومبر کو لاہور میں دیوالی میلے منعقد کیے جائیں گے۔ اس کے بعد کرسمس اور بابا گرو نانک دیو جی کے جنم دن کی تقریبات بھی بھرپور انداز میں منائی جائیں گی۔
رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ پنجاب کی ثقافت، پنجابی زبان اور مذہبی تنوع خطے کے مشترکہ ورثے کا حصہ ہیں۔ عوامی اور ثقافتی روابط کو فروغ دے کر امن، رواداری اور بھائی چارے کے پیغام کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے