مشرقِ وسطیٰ ہمیشہ سے صرف ریت، تیل اور صحراؤں کا خطہ نہیں رہا۔ یہ تہذیبوں کا گہوارہ بھی ہے، مذاہب کا مرکز بھی، عالمی تجارت کی گزرگاہ بھی اور بڑی طاقتوں کی سیاست کا میدان بھی۔ مگر آج یہ خطہ جس تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے، وہ محض چند ملکوں کے درمیان اختلاف یا چند جنگوں کا تسلسل نہیں؛ یہ پورے خطے کے طاقت کے توازن کی ازسرِنو تشکیل کا زمانہ ہے۔
کبھی یہاں طاقت کا مطلب صرف فوجی برتری سمجھا جاتا تھا، مگر اب طاقت کے معنی بدل چکے ہیں۔ جس کے پاس مضبوط معیشت ہے، جدید ٹیکنالوجی ہے، سفارتی اثر و رسوخ ہے، توانائی کے وسائل ہیں، عالمی تجارت کی گزرگاہوں پر اثر ہے اور سب سے بڑھ کر بدلتے حالات کے مطابق اپنی خارجہ پالیسی ڈھالنے کی صلاحیت ہے، وہی آنے والے مشرقِ وسطیٰ میں اپنا وزن برقرار رکھ سکے گا۔
آج کا سوال یہ نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں سب سے طاقتور ملک کون ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اگلا طاقت کا مرکز کہاں بنے گا؟
گزشتہ چند برسوں میں ایران کی علاقائی پوزیشن، شام کی سیاسی تبدیلی، اسرائیل کی فوجی سرگرمیوں، ترکی کے بڑھتے ہوئے اثر، سعودی عرب کی نئی سفارتی حکمتِ عملی اور خلیجی ممالک کی بدلتی ترجیحات نے خطے کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ شام میں بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والا خلا اب مختلف طاقتوں کے لیے ایک نئے مقابلے کا میدان بن چکا ہے۔ تجزیہ کار بھی شام کو خطے کے مستقبل کے لیے اہم امتحان قرار دے رہے ہیں۔
یہاں ایک دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے: مشرقِ وسطیٰ میں اب صرف جنگیں نہیں لڑی جا رہیں، مستقبل کے نقشے بھی بنائے جا رہے ہیں۔
ایران ایک طرف اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، دوسری طرف اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر خطے میں فوجی برتری قائم رکھنے کی خواہش رکھتا ہے۔ ترکی ایک مختلف راستہ اختیار کرتے ہوئے سفارت کاری، معیشت، دفاع اور علاقائی تعلقات کے ذریعے اپنا کردار بڑھا رہا ہے۔ سعودی عرب بھی محض تیل پیدا کرنے والی ریاست کے روایتی تصور سے آگے بڑھ کر خود کو ایک معاشی اور سفارتی طاقت کے طور پر منوانے کی کوشش میں ہے۔
یہ تبدیلی محض دارالحکومتوں میں نہیں ہو رہی؛ اس کے اثرات سمندروں تک پہنچ چکے ہیں۔
آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے سمندری راستے آج عالمی سیاست کے اہم ترین مراکز بن گئے ہیں۔ ان راستوں میں کشیدگی صرف ایک خطے کی تجارت کو متاثر نہیں کرتی بلکہ دنیا بھر میں تیل، گیس، خوراک، شپنگ اور مہنگائی پر اثر ڈال سکتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کمپنیوں نے بھی متبادل برآمدی راستوں اور زیادہ مضبوط سپلائی نظام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یہاں سے ہمیں سمجھ آتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ دراصل صرف مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نہیں۔
اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رُکتے ہیں تو اس کی قیمت ایشیا کا عام صارف ادا کرتا ہے۔ اگر باب المندب میں تجارتی راستہ غیر محفوظ ہوتا ہے تو یورپ کی منڈیاں متاثر ہوتی ہیں۔ اگر تیل کی قیمت بڑھتی ہے تو پاکستان جیسے درآمدی ممالک کے بجٹ پر دباؤ بڑھتا ہے۔ یعنی خطے میں ہونے والی ایک میزائل جنگ کا اثر ہمارے گھروں کے بجلی کے بل، پٹرول کی قیمت اور روزمرہ اشیائے ضروریہ تک پہنچ سکتا ہے۔
اسی لیے پاکستان کے لیے مشرقِ وسطیٰ محض خارجہ پالیسی کا موضوع نہیں، بلکہ قومی مفاد کا براہِ راست مسئلہ ہے۔
پاکستان کے سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات نے بھی نئی اہمیت اختیار کر لی ہے۔ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کا نیا فریم ورک خطے میں اجتماعی سلامتی کے تصور کو ایک نئی شکل دے رہا ہے۔ اکتوبر 2026 میں اس تعاون کو یمن کی تازہ کشیدگی کے تناظر میں عملی اہمیت بھی حاصل ہوئی ہے۔
مگر پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ کسی ایک فریق کی جنگ کا حصہ بننے کے بجائے امن، سفارت کاری اور قومی مفاد کو اپنی پالیسی کا مرکز بنائے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ میں داخل ہونا آسان ہوتا ہے، مگر جنگ سے نکلنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔
مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ گواہ ہے کہ بیرونی طاقتیں اکثر اپنے مفادات کے لیے خطے میں داخل ہوتی ہیں، مگر جنگ کا بوجھ مقامی عوام اٹھاتے ہیں۔ محلوں میں ملبہ گرتا ہے، بازار ویران ہوتے ہیں، بچے یتیم ہوتے ہیں، خاندان بچھڑتے ہیں اور پھر برسوں بعد عالمی طاقتیں نئی میز پر بیٹھ کر نئے معاہدے کر لیتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ان معاہدوں کی قیمت کون ادا کرتا ہے؟
عام انسان۔
یہی وجہ ہے کہ آج مشرقِ وسطیٰ کو صرف عسکری طاقت کے زاویے سے دیکھنا خطرناک ہوگا۔ اصل ضرورت ایک ایسے علاقائی نظام کی ہے جہاں ریاستیں ایک دوسرے کو ختم کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں، جہاں اختلاف کا جواب میزائل نہیں بلکہ مذاکرات ہوں، اور جہاں طاقت کا مطلب کمزور کو دبانا نہیں بلکہ امن قائم کرنے کی صلاحیت ہو۔
دنیا بدل رہی ہے۔
امریکہ کا خطے میں کردار بھی نئے سوالات سے دوچار ہے، جبکہ خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے لیے مختلف شراکت داریوں پر غور کر رہے ہیں۔ دوسری طرف چین اور دیگر عالمی طاقتوں کے معاشی مفادات بھی خطے میں موجود ہیں۔ یوں مشرقِ وسطیٰ اب ایک ایسی بساط بنتا جا رہا ہے جہاں کئی طاقتیں بیک وقت اپنے اپنے مہرے آگے بڑھا رہی ہیں۔
لیکن اس بساط پر سب سے اہم مہرہ عوام ہیں۔
بدقسمتی سے عالمی سیاست میں عوام اکثر اعداد و شمار بن جاتے ہیں؛ کتنے لوگ بے گھر ہوئے، کتنے زخمی ہوئے، کتنے ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ مگر ہر عدد کے پیچھے ایک گھر ہوتا ہے، ایک ماں ہوتی ہے، ایک باپ ہوتا ہے، ایک بچہ ہوتا ہے اور ایک ایسی زندگی ہوتی ہے جو شاید کبھی دوبارہ معمول پر نہ آ سکے۔
مشرقِ وسطیٰ کو اب ایک نئے ہتھیار کی نہیں، نئے سیاسی شعور کی ضرورت ہے۔
ایسا شعور جو یہ سمجھ سکے کہ مستقل فتح کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کی ہوتی ہے۔ ایسا شعور جو سمجھے کہ تیل کے کنویں، بندرگاہیں، میزائل اور فوجیں کسی ملک کو ہمیشہ کے لیے محفوظ نہیں بنا سکتیں۔ اصل تحفظ مضبوط اداروں، مستحکم معیشت، انصاف، تعلیم، سفارت کاری اور عوام کے اعتماد سے پیدا ہوتا ہے۔
آج مشرقِ وسطیٰ ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔
ایک راستہ مزید جنگوں، مزید تقسیم اور مزید طاقت کی کشمکش کی طرف جاتا ہے۔
دوسرا راستہ مذاکرات، علاقائی تعاون، معاشی شراکت اور مشترکہ سلامتی کی طرف۔
فیصلہ ابھی باقی ہے۔
مگر تاریخ کا اصول واضح ہے:
جو خطے اپنی طاقت کو امن میں تبدیل نہیں کرتے، وہ اپنی طاقت کو ایک دن اپنے ہی زخموں میں دفن کر دیتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی اصل جنگ شاید اب یہ نہیں کہ کون کس پر غالب آتا ہے۔
اصل جنگ یہ ہے کہ کون آنے والی نسلوں کے لیے امن کا نقشہ بناتا ہے۔
اور شاید آنے والے برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی طاقت وہ ملک نہیں ہوگا جس کے پاس سب سے زیادہ میزائل ہوں گے، بلکہ وہ ہوگا جو سب سے زیادہ امن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا۔