تحریر:معظم علی عزمی
ایک ایسا شہر جس کی گلیاں باہر سے دکھائی نہیں دیتیں، جہاں دن کے شور کا داخلہ ممنوع ہے اور جہاں رات کے پچھلے پہر انسان خود سے ملاقات کرنے جاتا ہے۔ اس شہر میں کچھ پرانی یادوں کے مکان ہوتے ہیں، کچھ ادھورے خوابوں کی کھڑکیاں، کچھ رشتوں کے بند دروازے اور کچھ ایسے راستے جو کبھی کسی منزل تک نہیں پہنچے۔
عجیب بات یہ ہے کہ انسان دنیا کے سامنے جتنا ہنستا ہے، اپنے اندر اتنا ہی خاموش ہوتا جاتا ہے۔ محفلوں میں قہقہے بکھیرنے والے بہت سے لوگ رات کی تنہائی میں اپنے ہی سوالوں کے سامنے خاموش بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہ سب کو تسلی دیتے ہیں، مگر اپنے دل کو تسلی دینے کے لیے ان کے پاس کوئی لفظ نہیں ہوتا۔
وقت انسان سے بہت کچھ چھین لیتا ہے۔ کبھی کوئی شخص، کبھی کوئی تعلق، کبھی کوئی خواب اور کبھی خود انسان کا وہ روپ جو اسے بے حد عزیز ہوتا ہے۔ مگر وقت کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ ہمیں بدلنے کے بعد یہ یقین بھی دلا دیتا ہے کہ ہم وہی ہیں۔
کچھ لوگ ہماری زندگی میں موسم کی طرح آتے ہیں۔ چند لمحوں کے لیے فضا بدل دیتے ہیں، دل کی زمین پر خوشبو چھوڑ جاتے ہیں اور پھر کسی نامعلوم سمت چلے جاتے ہیں۔ ہم انہیں روک نہیں پاتے، مگر ان کے گزرنے کے بعد بہت دیر تک اپنے اندر ان کے قدموں کی چاپ سنتے رہتے ہیں۔
زندگی شاید یہی نام ہے؛ کسی کے آنے کی خوشی، کسی کے جانے کا دکھ اور دونوں کے درمیان خود کو سنبھالنے کا ہنر۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ ہمیں محبت کی ضرورت ہے، حالاں کہ بعض اوقات ہمیں صرف کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمارے خاموش ہونے کا مطلب سمجھ سکے۔ جو ہمارے لفظوں سے زیادہ ہماری خاموشی پڑھے۔ جو یہ جان سکے کہ “میں ٹھیک ہوں” کہنے والا انسان ہمیشہ ٹھیک نہیں ہوتا۔
دنیا میں سب سے مشکل کام شاید یہی ہے کہ انسان اپنے اندر کے ٹوٹے ہوئے حصوں کو خود جوڑتا رہے اور پھر بھی چہرے پر زندگی کا یقین سجائے رکھے۔
مگر شاید یہی انسان کی اصل خوبصورتی بھی ہے۔
وہ ٹوٹتا ہے، مگر بکھرتا نہیں۔
وہ روتا ہے، مگر ہر آنسو کا اعلان نہیں کرتا۔
وہ ہارتا ہے، مگر زندگی سے مکمل دست بردار نہیں ہوتا۔
وہ کچھ لوگوں کو کھو دیتا ہے، مگر محبت کرنا نہیں چھوڑتا۔
اور ایک دن اسے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کا حسن ہر خواہش کے پورا ہونے میں نہیں، بلکہ بعض نامکمل خواہشوں کے ساتھ مسکرانا سیکھ لینے میں ہے۔
شاید سکون بھی کسی منزل کا نام نہیں۔ شاید سکون اس لمحے کا نام ہے جب انسان اپنے گزرے ہوئے کل سے لڑنا چھوڑ دیتا ہے، اپنے آنے والے کل سے خوفزدہ ہونا چھوڑ دیتا ہے اور آج کو پوری طرح محسوس کرنے لگتا ہے۔
تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ جس شہر کو وہ برسوں سے باہر تلاش کر رہا تھا، وہ شہر تو ہمیشہ سے اس کے اندر آباد تھا۔
بس وہاں پہنچنے کے لیے دنیا سے نہیں، خود سے سفر کرنا پڑتا ہے۔