تحریر: معظم علی عزمی
دنیا کے نقشے پر کچھ مقامات صرف شہر نہیں ہوتے، وہ کروڑوں انسانوں کے دلوں میں بستے ہیں۔ مکہ مکرمہ بھی ایسا ہی ایک مقدس شہر ہے، جہاں ہر سال دنیا کے مختلف خطوں سے مسلمان اپنے رب کے حضور حاضری دینے پہنچتے ہیں۔ اسی لیے جب مکہ مکرمہ کے قریب کسی حملے یا ڈرون کی خبر سامنے آتی ہے تو یہ صرف سعودی عرب کی سلامتی کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ پوری مسلم دنیا کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔
تازہ صورتحال میں سعودی حکام کے مطابق 15 ستمبر کی شام مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون کو سعودی فضائی دفاع نے روک کر تباہ کر دیا۔ سعودی قیادت نے واضح کیا کہ ڈرون مکہ کے ممنوعہ فضائی علاقے میں داخل نہیں ہو سکا۔ سعودی اتحادی افواج کے ترجمان نے حرمین شریفین اور زائرین کی سلامتی کو ’’ریڈ لائن‘‘ قرار دیا ہے۔ دوسری طرف حوثی گروپ نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔
یہاں ایک بات انتہائی اہم ہے: ایسے واقعات کے بارے میں جذبات اپنی جگہ، لیکن حقیقت کو حقیقت کے طور پر بیان کرنا بھی ضروری ہے۔ موجودہ اطلاعات کے مطابق ڈرون کو مکہ کے ممنوعہ فضائی علاقے میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لی