وفاقی وزیر پارلیمانی امورڈاکٹر طارق فضل چودھری نے جنید اکبر کے لائحہ عمل پر کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے 36 ارکان قومی اسمبلی استعفیٰ نہیں دیں گے۔
’’جیو نیوز‘‘ کے پروگرام’’ کیپٹل ٹاک‘‘ میں طارق فضل چودھری اور جنید اکبر نے شرکت کی اور موجودہ سیاسی صورتحال پر بات کی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے دھمکی نہیں دی، مسائل کا حل بتایا ہے اور لانگ مارچ سے معیشت کو پہنچنے والے نقصانات گنوائے ہیں۔ جواب میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے جو بات کی ہے، وہ خطرناک ہے، مذاکرات کے دوران ہم نے ایک بار بھی لانگ مارچ ملتوی کرنے کا نہیں کہا۔ ہم نے گفتگو کا آغاز کے پی میں دہشت گردی کے مسئلے سے کیا تھا۔ ہم نے کہا کہ اس جنگ میں صوبائی حکومت کا تعاون نہیں مل رہا۔پی ٹی آئی وفد نے کہا کہ ہوفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہے وہاں لاشیں گررہی ہیں، اگر صوبے میں سیاسی جماعتوں نے قرار داد پاس کی ہے تو قابل احترام ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت کو کبھی دہشت گردی کی مذمت کرتے نہیں سنا، بتایا جائے کہ کیا صوبائی حکومت دہشت گردی اکیلے کنٹرول کرسکتی ہے؟
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی، سمگلنگ اور منشیات کا گٹھ جوڑ بنا ہوا ہے، دہشت گردی کے خلاف جو وفاقی ادارے کام کررہے ہیں، اس میں صوبائی حکومت نے سپورٹ دینی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا مذاکرات میں کیوں نہیں آئے؟ مذاکرات میں پہلا نقطہ تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا یا مینا خان کو ہونا چاہیے، ایمرجنسی اگر لگے گی تو پی ٹی آئی حکومت کی حرکتوں کی وجہ سے لگے گی۔مارے پاس مینڈیٹ نہیں ہم صوبائی حکومت سے بات کریں گے، آج وزیراعلیٰ کہہ رہے ہیں دہشت گردی کے خلاف پالیسی میں تعاون نہیں کروں گا۔