وزیر اعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کا آغازقرآن مجید کی آیت کی تلاوت سے کیا۔اپنے خطاب کے آغاز میں وزیر اعظم نے کہا کہ میں پرامن پاکستانی عوام کی نمائندگی کررہا ہوں۔وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کو اسلام آباد میں ایک چھت تلے بٹھایا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں نے سفارت کاری کی گنجائش پیدا کی، سفارت کاری کا مطالبہ اب بھی بلند ہونا چاہیے۔
اپنے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے، انہیں تنازع کا چوک پوائنٹ نہیں بننا چاہیے۔وزیر اعظم نے کہا کہ مکہ کے مقدّس شہر پر ڈرون حملے نے دنیا بھر میں مسلمانوں کو غم و غصے میں مبتلا کیا، حرمین شریفین پر حملہ ریڈ لائن ہے، پاکستان سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ کھڑا ہے ۔