تحریر: معظم علی عزمی
کبھی جنگ کے لیے سرحدیں عبور کرنا پڑتی تھیں، توپیں چلتی تھیں، میزائل داغے جاتے تھے اور فوجیں ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہوتی تھیں۔ آج دنیا بدل چکی ہے۔ جنگ کے کئی محاذ اب خاموش ہو چکے ہیں، مگر ایک ایسا محاذ ہمارے ہاتھ میں موجود موبائل فون کی چھوٹی سی اسکرین کے اندر کھل چکا ہے، جہاں نہ بارود کی بو آتی ہے، نہ گولی کی آواز سنائی دیتی ہے، مگر ایک غلط کلک انسان کی جمع پونجی، شناخت، عزت اور کبھی کبھی پوری زندگی کی جمع پونجی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ یہ ہے سائبر کرائم کی نئی دنیا
پاکستان بھی اس بدلتی ہوئی دنیا سے الگ نہیں۔ بلکہ جیسے جیسے ملک میں موبائل فون، آن لائن بینکنگ، ڈیجیٹل ادائیگیوں، سوشل میڈیا، آن لائن خریداری اور مختلف ڈیجیٹل سہولیات کا استعمال بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے جرائم پیشہ عناصر نے بھی اپنے طریقے تبدیل کر لیے ہیں۔
اب چور کے ہاتھ میں ضروری نہیں کہ پستول ہو۔ کبھی وہ ایک موبائل نمبر کے پیچھے بیٹھا ہوتا ہے، کبھی جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ بناتا ہے، کبھی بینک کا نمائندہ بن کر فون کرتا ہے اور کبھی محبت، سرمایہ کاری یا کسی انعام کا جھانسہ دے کر اعتماد حاصل کرتا ہے۔
اصل خطرہ یہی ہے کہ **نیا مجرم اکثر ہمارے سامنے مجرم کی شکل میں نہیں آتا۔
وہ پہلے اعتماد حاصل کرتا ہے، پھر معلومات لیتا ہے، اور آخر میں نقصان پہنچاتا ہے۔
ایک فون کال، ایک پیغام اور پوری جمع پونجی
پاکستان میں آن لائن مالی فراڈ کی مختلف شکلیں سامنے آ رہی ہیں۔ جعلی سرمایہ کاری، جعلی انعام، بینک یا سرکاری ادارے کا نمائندہ بن کر فون کرنا، مشکوک لنک بھیجنا، OTP یا PIN حاصل کرنا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے لوگوں کو دھوکا دینا اب عام شہری کے لیے حقیقی خطرات بن چکے ہیں۔
خود نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی یعنی NCCIA شہریوں کو خبردار کرتی ہے کہ مشکوک لنکس پر کلک نہ کریں، کسی غیر مصدقہ شخص کو مالی معلومات نہ دیں، OTP اور PIN شیئر نہ کریں اور رقم منتقل کرنے سے پہلے وصول کنندہ کی تصدیق کریں۔
یہ احتیاطیں بظاہر معمولی لگتی ہیں، لیکن موجودہ ڈیجیٹل دور میں یہی چند عادات کسی خاندان کو بڑے مالی نقصان سے بچا سکتی ہیں۔
اسلام آباد میں 212 افراد کی کارروائی؛ معاملہ کتنا بڑا ہے؟
ستمبر 2026 میں اسلام آباد میں سائبر فراڈ کے خلاف ہونے والی ایک بڑی کارروائی نے اس مسئلے کی سنگینی کو دوبارہ سامنے لا کھڑا کیا۔
NCCIA کے مطابق 22 ستمبر کو اسلام آباد کے E-11اورG-10سیکٹرز میں تین کال سینٹرز پر کارروائی کی گئی، جس میں 212 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ کارروائی کے دوران 306 موبائل فونز، 383 کمپیوٹرز/CPUs اور 299 مانیٹرز اور لیپ ٹاپس برآمد کیے گئے۔ ادارے کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں بین الاقوامی فراڈ، گوگل اسکیمز اور مبینہ آن لائن ڈیٹنگ اسکیموں سے متعلق معاملات سامنے آئے۔ تحقیقات جاری ہیں اور الزامات کا حتمی فیصلہ عدالتوں میں ہونا ہے۔
یہ واقعہ صرف ایک چھاپے کی خبر نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ سائبر فراڈ اب انفرادی سطح سے آگے بڑھ کر منظم نیٹ ورکس کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ چند لوگ پکڑے گئے۔
اصل سوال یہ ہے کہ **کتنے لوگ اب بھی اس جال کا حصہ ہیں جن تک قانون کی رسائی نہیں ہوئی؟
ہماری شناخت کتنی محفوظ ہے؟
سائبر کرائم کا ایک اور خطرناک پہلو “ذاتی ڈیٹا”ہے۔
نام، شناختی کارڈ نمبر، موبائل نمبر، پتہ، سم کی معلومات، خاندان کی تفصیلات، کال ریکارڈ اور دیگر حساس معلومات اگر مجرمانہ عناصر کے ہاتھ لگ جائیں تو عام شہری کے لیے مشکلات کا ایک نیا دروازہ کھل سکتا ہے۔
9 ستمبر 2026 کو لاہور میں NCCIA نے دو افراد کو گرفتار کرنے کا بتایا جن پر شہریوں کا حساس ڈیٹا حاصل کرنے اور فروخت کرنے کا الزام تھا۔ ادارے کے مطابق تقریباً تین ٹیرا بائٹس ڈیٹا برآمد ہوا اور ملزمان کو مبینہ طور پر دس ملین سے زیادہ شہریوں کے ڈیٹا تک رسائی حاصل تھی۔ برآمد شدہ معلومات میں سم کی رجسٹریشن، کال ڈیٹیل ریکارڈ، صارفین کی لوکیشن اور دیگر حساس معلومات شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
اگر کسی انسان کے گھر کا دروازہ محفوظ ہو مگر اس کی شناختی معلومات ہر مجرم کے لیے دستیاب ہوں تو کیا وہ واقعی محفوظ ہے؟
یہ سوال صرف حکومت سے نہیں، ہم سب سے ہے۔
سائبر مجرم اعتماد چراتا ہے روایتی چوری میں چور آپ کی چیز چراتا ہے۔
سائبر فراڈ میں مجرم پہلے آپ کا اعتماد چراتا ہے وہ آپ کو فون کرتا ہے
“میں بینک سے بات کر رہا ہوں۔” “آپ کا اکاؤنٹ بند ہونے والا ہے۔” “آپ کے نام پر انعام نکلا ہے۔” “آپ کی SIM بند ہونے والی ہے۔” “آپ کی سرمایہ کاری دوگنی ہو سکتی ہے۔” “میں فلاں ادارے سے بات کر رہا ہوں۔”
اور پھر وہ ایک ایسی معلومات مانگتا ہے جسے سننے میں شاید معمولی سمجھا جائے، مگر وہی معلومات اس کے لیے آپ کے اکاؤنٹ، شناخت یا رقم تک پہنچنے کا راستہ بن سکتی ہے۔
یہاں اصل ہتھیار ٹیکنالوجی سے زیادہ انسانی نفسیات بن جاتی ہے۔
خوف، لالچ، جلد بازی اور اعتماد—یہ وہ چار دروازے ہیں جن سے فراڈ کرنے والا شخص شہری کی ڈیجیٹل زندگی میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ محبت بھی فراڈ کا راستہ بن سکتی ہے سائبر جرائم کی دنیا نے انسانی جذبات کو بھی اپنا ہتھیار بنا لیا ہے۔
حال ہی میں اسلام آباد میں سامنے آنے والے ایک مبینہ فراڈ نیٹ ورک کے بارے میں حکام نے بتایا کہ آن لائن ڈیٹنگ اور گفتگو کے ذریعے لوگوں کا اعتماد حاصل کیا جاتا، پھر انہیں مبینہ آن لائن ٹاسکس یا سرمایہ کاری کے منصوبوں کی طرف راغب کیا جاتا تھا۔ یہ معاملہ بھی زیرِ تفتیش ہے۔ یہاں ایک لمحے کے لیے سوچنے کی ضرورت ہے۔
ہم جس شخص کو موبائل کی اسکرین پر دیکھ رہے ہوتے ہیں، کیا وہ واقعی وہی شخص ہے جو وہ خود کو ظاہر کر رہا ہے؟
ڈیجیٹل دنیا میں چہرہ، آواز اور شناخت سب کچھ نقل کیا جا سکتا ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ NCCIA نے خود موجودہ سائبر خطرات میں مصنوعی ذہانت، ڈیپ فیک، تبدیل شدہ آڈیو و ویڈیو، شناختی جعل سازی اور مالی فراڈ کو اہم خطرات قرار دیا ہے۔
AI نے خطرہ مزید پیچیدہ کر دیا
مصنوعی ذہانت نے جہاں دنیا کے لیے بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں، وہیں اس کا غلط استعمال بھی ایک نیا مسئلہ بن رہا ہے۔
کسی کی آواز کو تبدیل کرنا، جعلی ویڈیو بنانا، کسی شخصیت کے چہرے کو دوسری ویڈیو پر لگانا یا ایسا پیغام تیار کرنا جو بظاہر بالکل حقیقی محسوس ہو—یہ سب ٹیکنالوجی کے اس دور میں پہلے کے مقابلے میں آسان ہو رہا ہے۔
تصور کریں کہ کسی شخص کو اپنے بھائی، دوست یا کسی اہم ادارے کے نمائندے کی آواز میں فون آئے اور فوری رقم کا مطالبہ کیا جائے۔ عام آدمی کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں کہ آواز اصلی ہے یا مصنوعی اسی لیے آنے والے وقت میں سائبر سیکیورٹی صرف کمپیوٹر ماہرین کا مسئلہ نہیں رہے گی بلکہ ہر شہری کی بنیادی ضرورت بن جائے گی نوجوانوں کے لیے ایک بڑا سوال پاکستان کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہی نوجوان ڈیجیٹل دنیا کے سب سے بڑے صارف بھی ہیں سوشل میڈیا، فری لانسنگ، آن لائن کاروبار، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس اور آن لائن تعلیم نے پاکستانی نوجوانوں کے لیے نئے راستے کھولے ہیں لیکن ہر آن لائن موقع حقیقی نہیں ہوتا ایک طرف حقیقی فری لانسنگ ہے، دوسری طرف جعلی آن لائن نوکریاں۔
ایک طرف حقیقی سرمایہ کاری ہے، دوسری طرف جعلی ٹریڈنگ ایپس۔
ایک طرف حقیقی کاروبار ہے، دوسری طرف جعلی آن لائن اسٹورز۔
ایک طرف حقیقی محبت ہے، دوسری طرف جذبات کو استعمال کرنے والے فراڈیے۔
لہٰذا ڈیجیٹل خواندگی اب صرف یہ جاننا نہیں کہ Facebook یا TikTok کیسے چلانا ہے ڈیجیٹل خواندگی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہمیں معلوم ہو کہ دھوکا کیسے پہچاننا ہے مسئلہ صرف حکومت کا نہیں
یہ کہنا آسان ہے کہ حکومت سائبر مجرموں کو پکڑے۔
یقیناً قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ مجرموں کے خلاف کارروائی کریں، ڈیجیٹل شواہد محفوظ کریں، متاثرین کی مدد کریں اور عدالتوں کے سامنے مضبوط مقدمات پیش کریں۔
لیکن شہری کی اپنی ذمہ داری بھی کم نہیں۔
اگر کسی شخص کو معلوم ہے کہ OTP کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرنا، پھر بھی وہ شیئر کرتا ہے تو مسئلہ صرف فراڈ کرنے والے کا نہیں رہتا اگر کوئی شخص بغیر تحقیق کے لاکھوں روپے کسی نامعلوم سرمایہ کاری اسکیم میں لگا دیتا ہے تو خطرہ پہلے ہی موجود تھا۔
اگر کوئی شخص اپنا شناختی کارڈ، بینک تفصیلات یا ذاتی تصاویر ہر غیر معروف شخص کے ساتھ شیئر کرتا ہے تو وہ خود کو خطرے کے قریب لے جا رہا ہےڈیجیٹل دنیا میں احتیاط بھی ایک حفاظتی دیوار ہے
قانون، ادارے اور عوام
پاکستان میں سائبر کرائم کے خلاف ادارہ جاتی کارروائیاں جاری ہیں۔ NCCIA کے مطابق اس کا کام سائبر جرائم کی تحقیقات، ڈیجیٹل فرانزک، قانونی کارروائی اور عوامی آگاہی سمیت مختلف شعبوں پر مشتمل ہے۔
ستمبر میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بھی بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران وزیراعظم کے Public Affairs & Grievances Wing سے NCCIA کو سائبر فراڈ، سائبر بُلنگ، سائبر ہراسگی، ویزا فراڈ اور شناختی چوری سے متعلق 140 شکایات بھیجی گئیں؛ ان میں 80 مالی فراڈ کے معاملات شامل تھے۔
یہ اعداد ہمیں بتاتے ہیں کہ مسئلہ صرف اخبارات کی سرخی نہیں بلکہ شہریوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے ہمیں کیا کرنا ہوگا؟ ہمیں ٹیکنالوجی سے بھاگنا نہیں، اسے سمجھنا ہوگا ہر شہری کو چند بنیادی اصول یاد رکھنے ہوں گے مشکوک لنک پر کلک نہ کریں۔
OTP، PIN ںاور پاس ورڈ کسی کو نہ دیں
بینک یا سرکاری ادارے کے نام پر آنے والی کال کو خود سرکاری نمبر سے تصدیق کریں
آن لائن سرمایہ کاری میں رقم لگانے سے پہلے مکمل تحقیق کریں
سوشل میڈیا پر اپنی ذاتی معلومات ضرورت سے زیادہ شیئر نہ کریں
جعلی پروفائل اور جعلی ویڈیوز سے محتاط رہیں
کسی کے دباؤ میں آ کر فوری رقم منتقل نہ کریں اور اگر فراڈ ہو جائے تو خاموش نہ رہیں کیونکہ خاموشی مجرم کو مزید طاقت دیتی ہے۔
آخر میں ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ہماری جیب میں موجود موبائل فون صرف فون نہیں رہا یہ ہماری بینک ہے یہ ہماری شناخت ہے یہ ہماری ذاتی گفتگو ہے یہ ہماری تصاویر ہیں یہ ہماری کاروباری معلومات ہیں یہ ہماری یادیں ہیں
اور بعض اوقات یہ ہماری پوری زندگی کا ڈیجیٹل ریکارڈ اپنے اندر رکھتا ہے اسی لیے موبائل کی اسکرین کو صرف تفریح کی کھڑکی سمجھنا خطرناک ہے اس اسکرین کے دوسری طرف ایک پوری دنیا موجود ہے—ایک ایسی دنیا جہاں علم بھی ہے، روزگار بھی ہے، کاروبار بھی ہے، تعلقات بھی ہیں اور جرائم بھی۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اس دنیا کے باشعور صارف بنیں گے یا آسان شکار
آج سائبر مجرم ہمارے دروازے پر دستک نہیں دیتا
وہ شاید ہماری جیب میں موجود موبائل سے ہمیں آواز دیتا ہے
وہ شاید ہمارے WhatsApp پر پیغام بھیجتا ہے
وہ شاید Facebook یا Instagram پر دوست بن کر آتا ہے
وہ شاید محبت کا دعویٰ کرتا ہے وہ شاید سرمایہ کاری کا خواب دکھاتا ہے
اور شاید وہ صرف ایک لنک بھیجتا ہے۔
اصل جنگ اسی لمحے شروع ہوتی ہے جب ہم اس لنک کو کھولنے کے لیے انگلی بڑھاتے ہیں۔
اس لیے آج ضرورت صرف مضبوط پاس ورڈز کی نہیں، مضبوط شعور کی بھی ہے کیونکہ آنے والے وقت میں سائبر سیکیورٹی صرف کمپیوٹر کی حفاظت کا نام نہیں ہوگی۔
یہ انسان کی شناخت، عزت، دولت اور مستقبل کی حفاظت کا نام ہوگی اور شاید اسی لیے آج ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ موبائل کیسے استعمال کرنا ہے، بلکہ یہ بھی سکھانا چاہیے کہ موبائل انہیں استعمال نہ کرنے لگے.