وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صوبائی حکومت کے اقدامات کا محور عام آدمی کی فلاح و بہبود ہے۔ پنجاب کابینہ کے 37ویں اجلاس میں عوامی مسائل، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی بہتری کے اقدامات پر غور کیا گیا۔  خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جامِ شہادت نوش کرنے والے فوجی جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ ملک کے دفاع اور امن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے جوان پوری قوم کے ہیرو ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ افسوسناک امر ہے کہ بعض سیاسی رہنما آج بھی تحریک طالبان پاکستان کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے سے گریز کرتے ہیں۔

 انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کا شکار رہنے والی سیاسی جماعتوں کو دہشتگردی کے معاملے پر دوٹوک مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔ ملک کی محبت اور قومی مفاد کو ہر سیاسی وابستگی پر مقدم رکھا جانا چاہیے۔
وزیر اطلاعات نے خیبر پختونخوا میں معدنیات کے لائسنسوں کے اجراء پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبے میں 2010ء تک معدنیات کے 422 لائسنس جاری کیے گئے، جبکہ 2013ء سے 2024ء کے دوران 4,200 سے زائد لائسنس جاری ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ان کے مطابق سابق وزرائے اعلیٰ محمود خان اور علی امین گنڈاپور کے ادوار میں 1 ہزار کے قریب لائسنس جاری کیے گئے۔معدنی وسائل سے متعلق بعض معاملات میں خاندانی مفادات اور فیملی لیمیٹڈ کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا گیا۔  پنجاب اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر معدنیات کے لائسنسوں کے معاملے میں سخت اقدامات کرتے ہوئے متعدد لائسنس منسوخ کیے گئے اور متعلقہ ریکارڈ موجود ہے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں جرائم کی صورتحال سے متعلق اعدادوشمار کی تصدیق کے بغیر دعوے کرنا مناسب نہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز کے خلاف سیاسی بغض کی بنیاد پر صوبے کی کارکردگی کو متنازع بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ڈکیتی کے واقعات میں کمی آئی ہے اور خواتین و بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پر وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔ ایسے واقعات میں ایف آئی آر کے اندراج اور ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ خبریں نشر کرنے سے قبل حقائق کی تصدیق ضرور کریں۔

وزیر اطلاعات نے پنجاب حکومت کے ترقیاتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں زراعت، لائیو سٹاک، ہنرمندی اور برآمدات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔  2026ء سے 2030ء تک کے ترقیاتی پروگرام کے تحت زراعت اور لائیو سٹاک کی ترقی پر توجہ دی جا رہی ہے، جس میں تقریباً 2 ہزار ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ ان کے مطابق 46 سے زائد سرمایہ کار اس پروگرام میں دلچسپی رکھتے ہیں، جبکہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پاکستان کی مصنوعات عالمی منڈیوں میں اپنی شناخت رکھتی ہیں، تاہم فٹبال، کٹلری اور دیگر مصنوعات اکثر بیرون ملک مختلف ناموں سے فروخت ہوتی رہی ہیں۔ اب پاکستانی مصنوعات کو اصل قومی شناخت، یعنی’’میڈ اِن پاکستان‘‘ کے نام سے عالمی منڈیوں تک پہنچانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ پنک سالٹ کی برآمدات بھی پاکستانی شناخت کے ساتھ فروغ دی جائیں گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکھوں کی ٹیسٹنگ کی سہولت بھی پاکستان میں فراہم کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے دور میں ہنرمندی کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے پاکستان سکلز ڈیولپمنٹ فنڈ کے ذریعے سہولت کاری کی گئی اور بعض نوجوان سعودی عرب میں بڑی فوڈ چینز میں ملازمتیں حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے 2 سالہ دور میں 30 ہزار سے زائد ٹریکٹر فراہم کیے ہیں، جبکہ اس مد میں 9.5 ارب روپے کی سبسڈی پنجاب حکومت ادا کرے گی۔ ساہیوال میں بیوٹیفکیشن منصوبے کا آغاز بھی وزیراعلیٰ پنجاب نے کیا ہے۔ ہر ضلع میں پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے قیام کے اقدامات جاری ہیں، جبکہ گلگت بلتستان کو 6 کلینک آن ویلز گاڑیاں فراہم کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔