تحریر: معظم علی عزمی
بعض خواہشیں انسان کی روح میں اس طرح رچ بس جاتی ہیں کہ اُن سے دست بردار ہونا اپنی ذات سے انکار کرنے کے مترادف محسوس ہوتا ہے۔ وہ خواہشیں جن کے حصول میں انسان اپنی عمر کی ساعتیں، اپنی آنکھوں کے خواب اور اپنے دل کی تمام تر توانائیاں صرف کر دیتا ہے، مگر بالآخر اُن کے سامنے کھڑا ہو کر اُسے احساس ہوتا ہے کہ ہر چاہت مقدر کی دہلیز تک رسائی نہیں رکھتی، اور ہر خواب تعبیر کے آنگن میں اترنے کے لیے پیدا نہیں ہوتا۔ بعض منزلیں فقط دیکھنے کے لیے ہوتی ہیں، پانے کے لیے نہیں؛ بعض چہرے فقط یادوں میں آباد رہتے ہیں، زندگی میں نہیں؛ اور بعض تعلقات انسان کے وجود میں تو سانس لیتے ہیں، مگر اُس کی دسترس سے ہمیشہ باہر رہتے ہیں۔
دسترس محض فاصلے کا نام نہیں، یہ انسان کی بے بسی کی وہ آخری حد ہے جہاں خواہشیں تو زندہ رہتی ہیں، مگر اُن کی تکمیل کے تمام راستے دم توڑ دیتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہاتھ بڑھانے کی آرزو تو باقی رہتی ہے، مگر انگلیوں کی لکیریں ساتھ دینے سے انکار کر دیتی ہیں۔ جہاں آنکھیں کسی منظر کو اپنی پلکوں میں قید کرنے کی تمنا کرتی ہیں، مگر وقت اپنی بے رحم انگلیوں سے اُس منظر کو دھندلا دیتا ہے۔ انسان عمر بھر اپنی چاہتوں کے تعاقب میں سرگرداں رہتا ہے، اور جب کسی ایک خواہش کو اپنی منزل سمجھ کر اُس کی جانب بڑھتا ہے تو زندگی اُسے ایک نئے انکشاف سے دوچار کر دیتی ہے کہ ہر راستہ منزل تک نہیں جاتا، بعض راستے انسان کو اُس کی اپنی حقیقت تک لے آتے ہیں۔
عجیب المیہ ہے کہ انسان ہمیشہ اُنہی چیزوں کے لیے سب سے زیادہ بے قرار رہتا ہے جن پر اُس کا اختیار سب سے کم ہوتا ہے۔ وہ کسی کی قربت کو اپنی قسمت کی تحریر سمجھ بیٹھتا ہے، کسی کی مسکراہٹ کو اپنی زندگی کا حاصل قرار دیتا ہے، اور کسی ایک خواب کے گرد اپنی پوری کائنات تعمیر کر لیتا ہے۔ پھر جب حالات کی ایک معمولی سی کروٹ اُس کی ساری تعمیر کو ملبے میں تبدیل کر دیتی ہے تو اُسے معلوم ہوتا ہے کہ اُس نے جس شے کو اپنی ملکیت سمجھا تھا، وہ تو کبھی اُس کے اختیار میں تھی ہی نہیں۔ وہ جسے اپنا حق سمجھتا رہا، وہ دراصل اُس کی آرزو تھی؛ وہ جسے اپنی منزل سمجھتا رہا، وہ محض اُس کی نگاہوں کا فریب تھا۔
کبھی کبھی دسترس کی محرومی کسی انسان کے چھن جانے سے زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے، کیونکہ چھن جانے والی چیز کا ماتم ایک وقت کے بعد تھم بھی جاتا ہے، مگر وہ چیز جو کبھی حاصل ہی نہ ہو سکے، انسان کے اندر ایک دائمی سوال بن کر رہ جاتی ہے۔ اُس کی یاد کسی خاموش شام کی طرح دل میں اترتی ہے، اُس کا خیال کسی بے نام کسک کی صورت روح میں جاگتا ہے، اور اُس کی خواہش ایک ایسے چراغ کی مانند جلتی رہتی ہے جس کے حصے میں روشنی سے زیادہ دھواں لکھ دیا گیا ہو۔ انسان بظاہر زندگی کے تمام معمولات نبھاتا رہتا ہے، مگر اُس کے باطن میں ایک گوشہ ایسا بھی ہوتا ہے جہاں وقت کی رسائی نہیں ہوتی، جہاں کچھ ادھورے خواب اپنی شکستہ آنکھوں کے ساتھ اب بھی کسی معجزے کے منتظر رہتے ہیں۔
اور پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب انسان اپنی خواہشوں کے جنازے کو اپنے ہی کندھوں پر اٹھائے، خاموشی سے زندگی کی بھیڑ میں چلنا سیکھ لیتا ہے۔ وہ مسکرانے لگتا ہے، محفلوں میں بیٹھنے لگتا ہے، لوگوں کی باتوں پر سر ہلانے لگتا ہے، مگر اُس کے اندر کہیں ایک شخص ایسا ہوتا ہے جو آج بھی کسی ناممکن امکان کی دہلیز پر بیٹھا ہوا ہے۔ اُس نے اپنی محرومی کو لفظ دینا چھوڑ دیا ہوتا ہے، کیونکہ کچھ دکھ بیان ہونے کے بعد ہلکے نہیں ہوتے، بلکہ اپنی پوری شدت کے ساتھ انسان کے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جن پر خاموشی کا مرہم ہی مناسب معلوم ہوتا ہے، اور کچھ خواہشیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں ترک کرنا ممکن نہیں ہوتا، صرف اُن کے بغیر جینا سیکھنا پڑتا ہے۔
شاید زندگی کی سب سے بڑی دانائی یہی ہے کہ انسان اپنی دسترس اور اپنی تمنا کے درمیان فرق کرنا سیکھ لے۔ ہر چاہت کو ضد، ہر محرومی کو شکست اور ہر ناکامی کو اپنی ذات کی توہین سمجھنا چھوڑ دے۔ کیونکہ بعض اوقات جو چیز ہمیں نہیں ملتی، وہ ہماری اہلیت کی کمی نہیں ہوتی، بلکہ زندگی کی اُن نامعلوم مصلحتوں کا حصہ ہوتی ہے جنہیں سمجھنے کے لیے محض عقل نہیں، ایک طویل اور صبر آزما تجربہ درکار ہوتا ہے۔ ہر بند دروازہ ہماری نااہلی کا اعلان نہیں کرتا، اور ہر نامکمل خواب ہماری شکست کی گواہی نہیں دیتا۔ بعض خواب ہمیں منزل تک پہنچانے کے بجائے ہمیں ہماری گہرائیوں سے آشنا کرنے آتے ہیں۔
دسترس سے باہر رہ جانے والی ہر شے محرومی نہیں ہوتی؛ بعض اوقات وہ ہماری روح کی تربیت، ہمارے شعور کی بالیدگی اور ہماری ذات کی تکمیل کا ایک خاموش وسیلہ بھی ہوتی ہے۔ انسان جب اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود کسی خواہش تک نہیں پہنچ پاتا تو اُسے دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے: یا تو وہ اپنی باقی ماندہ زندگی اُس ناممکن کے تعاقب میں گزار دے، یا پھر اپنے اندر اتنی وسعت پیدا کرے کہ محرومی اُس کے وجود کو شکست دینے کے بجائے اُس کی شخصیت کا حصہ بن جائے۔
کیونکہ زندگی ہمیشہ وہ نہیں دیتی جس کی ہمیں طلب ہوتی ہے، مگر کبھی کبھی وہ ہمیں وہ شعور ضرور عطا کر دیتی ہے جس کے بعد ہم اپنی طلب کو نئے معنی پہنا سکتے ہیں۔
اور شاید یہی دسترس کا سب سے گہرا المیہ بھی ہے اور سب سے بڑی حکمت بھی کہ انسان عمر بھر دنیا کو اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ ایک دن اُسے احساس ہوتا ہے کہ اصل کمال ہر شے کو پا لینے میں نہیں، بلکہ بعض چیزوں کو نہ پا سکنے کے باوجود اپنے اندر کی روشنی کو بجھنے نہ دینے میں ہے۔
کچھ فاصلے قدموں سے طے نہیں ہوتے، کچھ خواب تعبیر کے محتاج نہیں ہوتے، اور کچھ خواہشیں زندگی بھر انسان کے ساتھ چلتی ہیں، مگر اُس کی منزل نہیں بنتیں۔
کیونکہ ہر وہ شے جو دل کی دسترس میں ہو، ضروری نہیں کہ قسمت کی دسترس میں بھی ہو؛ اور ہر وہ چیز جو قسمت میں نہ ہو، ضروری نہیں کہ اُس کی آرزو دل سے بھی مٹ جائے۔