از قلم: نمرہ چودھری
ذرا سوچیے! جس موبائل فون کو ہم دن رات ہاتھ میں لیے کبھی پیغامات پڑھتے ہیں، کبھی ویڈیوز دیکھتے ہیں اور کبھی گھنٹوں سوشل میڈیا پر وقت گزار دیتے ہیں، اگر یہی موبائل ہماری بے روزگاری کا حل، ہماری خودمختاری کا ذریعہ اور ہمارے خوابوں کی تعبیر بن جائے تو؟
کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ ہماری ہتھیلی میں موجود یہ چھوٹا سا آلہ محض رابطے کا وسیلہ نہیں، بلکہ مواقع کی ایک ایسی دنیا ہے جس کے دروازے ہر روز ہمارے سامنے کھل رہے ہیں؟ ایک ایسی دنیا جہاں علم کو ہنر میں، ہنر کو روزگار میں اور محنت کو کامیابی میں بدلا جا سکتا ہے۔
بقول ڈاکٹر علامہ محمد اقبال
نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
چند سال پہلے تک ہمارے معاشرے میں ذریعۂ معاش کے مواقع محدود سمجھے جاتے تھے۔ ملازمت، مزدوری، دکان داری یا چھوٹا کاروبار ہی آمدنی کے عام ذرائع تھے۔ بہت سی خواتین گھریلو ذمہ داریوں کے باعث معاشی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے پاتی تھیں، جبکہ بے شمار نوجوان مناسب مواقع نہ ملنے کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کے باوجود بے روزگار رہ جاتے تھے۔
پھر ٹیکنالوجی نے زندگی کے کئی دروازے کھول دیے۔ موبائل فون، جو کبھی صرف رابطے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، آج علم، ہنر، کاروبار اور روزگار کے نئے امکانات فراہم کر رہا ہے۔
اب کوئی خاتون گھر بیٹھے اپنی تیار کردہ مصنوعات فروخت کر سکتی ہے، کوئی طالب علم ویڈیو ایڈیٹنگ کے ذریعے اپنی مہارت دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچا سکتا ہے، کوئی گھریلو فرد آن لائن تدریس شروع کر سکتا ہے اور کوئی نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے کاروبار کو وسعت دے سکتا ہے۔
یہ مواقع صرف کسی ایک طبقے، جنس یا عمر کے افراد کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس شخص کے لیے ہیں جو سیکھنے، محنت کرنے اور آگے بڑھنے کا جذبہ رکھتا ہے۔
بدقسمتی سے ہم میں سے بہت سے لوگ آج بھی موبائل فون کو زیادہ تر تفریح اور وقت گزاری کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہی آلہ ہمارے لیے ایک چھوٹا سا دفتر، کاروباری مرکز، تعلیمی ادارہ اور دنیا بھر سے رابطے کا وسیلہ بن سکتا ہے۔
ضرورت صرف اپنی سوچ بدلنے اور دستیاب مواقع کو سمجھنے کی ہے۔
1۔ اپنے ہنر سے کمائیں — فری لانسنگ
کامیابی کے لیے صرف ڈگری ہی نہیں، عملی مہارت بھی اہم ہے۔ اگر آپ لکھنے، ترجمہ کرنے، گرافک ڈیزائننگ، ویڈیو ایڈیٹنگ یا سوشل میڈیا مینجمنٹ میں دلچسپی رکھتے ہیں تو موبائل فون کے ذریعے ان مہارتوں کو سیکھنے اور بہتر بنانے کا آغاز کر سکتے ہیں۔
Canva سے ڈیزائننگ، CapCut سے ویڈیو ایڈیٹنگ اور Google Docs سے تحریری کام کی مشق کی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد Fiverr اور Upwork جیسے پلیٹ فارمز پر اپنی مہارت کے مطابق کام تلاش کیا جا سکتا ہے۔
ابتدا میں کام حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لیے اپنے کام کے نمونے تیار کرنا، مسلسل مشق کرنا اور گاہکوں کا اعتماد جیتنا ضروری ہے۔ لیکن ہر چھوٹا قدم تجربے میں اضافہ کرتا ہے اور آگے بڑھنے کے نئے امکانات پیدا کرتا ہے۔
یاد رکھیے، آپ کی مہارت آپ کی پہچان بن سکتی ہے، چاہے آپ طالب علم ہوں، گھریلو ذمہ داریاں نبھا رہے ہوں یا ملازمت کے ساتھ اضافی آمدنی حاصل کرنا چاہتے ہوں۔
2۔ اپنی صلاحیت کو پہچانیں — سوشل میڈیا سے آمدنی
ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خوبی موجود ہوتی ہے۔ کوئی اچھا کھانا بناتا ہے، کوئی خوبصورت انداز میں بات کرتا ہے، کوئی تعلیمی معلومات فراہم کرتا ہے اور کوئی تخلیقی کام میں مہارت رکھتا ہے۔
ان صلاحیتوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ کھانا پکانے کی ترکیبیں، تعلیمی ویڈیوز، گھریلو ہنر، زبان سیکھنے کے اسباق، معلوماتی گفتگو اور دستکاری اس کی چند مثالیں ہیں۔
خواتین اور مرد، دونوں اپنی دلچسپی اور صلاحیت کے مطابق مواد تیار کر سکتے ہیں۔ وہ افراد بھی اس میدان میں حصہ لے سکتے ہیں جو گھریلو ذمہ داریوں یا دیگر وجوہات کی بنا پر گھر سے باہر کام نہیں کر پاتے۔
YouTube اور Facebook جیسے پلیٹ فارمز پر معیاری اور اصل مواد کے ذریعے آمدنی کے امکانات موجود ہیں، لیکن مونیٹائزیشن کے لیے متعلقہ پلیٹ فارم کی شرائط پوری کرنا ضروری ہے۔ کامیابی فوری نہیں ملتی؛ مستقل مزاجی، معیار اور ناظرین کا اعتماد اس سفر کی بنیاد ہیں۔