پشاور کی سڑکوں پر جمع ہونے والا سیاسی قافلہ محض ایک احتجاجی اجتماع نہیں بلکہ اس وقت ملک کے سیاسی منظرنامے میں ایک اہم سوال بن چکا ہے: کیا یہ لانگ مارچ صرف احتجاج ہے، یا پاکستان کی سیاست کسی نئے مرحلے میں داخل ہونے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریکِ انصاف کا موجودہ لانگ مارچ 4 اکتوبر کو لکی مروت سے شروع ہوا اور 8 اکتوبر کو پشاور پہنچا۔ اس مارچ کا بنیادی مطالبہ عمران خان کی رہائی ہے، تاہم اس کے ساتھ خیبر پختونخوا کی سکیورٹی پالیسی، سیاسی مذاکرات اور وفاق و صوبے کے تعلقات جیسے معاملات بھی سیاسی بحث کا حصہ بن گئے ہیں۔ تازہ شیڈول کے مطابق مارچ پشاور سے چارسدہ، پھر مردان اور 11 اکتوبر کو صوابی پہنچنے کا پروگرام رکھتا ہے، جہاں آئندہ کا لائحۂ عمل طے کیا جائے گا۔
یہاں سے اصل سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس مارچ کی منزل کیا ہے؟
شروع میں اسے اسلام آباد کی طرف جانے والا لانگ مارچ قرار دیا گیا تھا، مگر راستے میں کئی تبدیلیاں ہوئیں اور اس وقت بھی حتمی منزل واضح نہیں۔ یہی غیر یقینی کیفیت اس احتجاج کو محض ایک روایتی سیاسی ریلی کے بجائے ایک بڑے سیاسی سوال میں تبدیل کر رہی ہے۔
سیاسی احتجاج جمہوری نظام کا حصہ ہے۔ اختلافِ رائے بھی جمہوریت کی روح ہے اور حکومت سے سوال کرنا بھی عوام کا حق ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ احتجاج کا راستہ ایسا ہو جس میں عام شہری کی زندگی، کاروبار، آمدورفت اور امن و امان متاثر نہ ہوں۔ سیاست اگر عوام کے لیے ہے تو عوام کی مشکلات بھی سیاسی فیصلوں کا بنیادی حصہ ہونی چاہئیں۔
پشاور میں مارچ کے دوران موبائل اور انٹرنیٹ سروس میں رکاوٹوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ایسے حالات میں ایک عام شہری کے لیے سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ کون سا سیاسی فریق درست ہے؛ سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ اس سیاسی کشمکش کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟
دوسری طرف حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا معاملہ بھی اس پوری صورتحال کو مزید اہم بنا رہا ہے۔ PTI چیئرمین بیرسٹر گوہر نے مذاکرات کے لیے ایک درمیانی راستے کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے بھی مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کی بات کی گئی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی کشمکش کے باوجود مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔
یہاں پاکستان کی سیاست کے لیے اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔
اگر سیاسی اختلاف سڑکوں پر منتقل ہو جائے تو ریاستی اداروں، سیاسی جماعتوں اور عوام، تینوں پر ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ احتجاج کو صرف انتظامی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اس کے سیاسی اسباب کو بھی سمجھے۔ اپوزیشن کے لیے ضروری ہے کہ اپنے مطالبات کو واضح، آئینی اور پُرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے آگے بڑھائے۔
آج پشاور کے بعد چارسدہ، پھر مردان اور صوابی کا راستہ صرف جغرافیائی سفر نہیں۔ یہ دراصل پاکستان کی موجودہ سیاست کے ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے کی طرف سفر بھی ہو سکتا ہے۔
صوابی میں اگلا لائحۂ عمل سامنے آنے کی بات کی جا رہی ہے۔ یہی وہ مقام ہوگا جہاں یہ اندازہ زیادہ واضح ہو سکے گا کہ موجودہ مارچ کا رخ صرف احتجاجی اجتماعات تک محدود رہتا ہے یا سیاسی دباؤ کی ایک نئی شکل اختیار کرتا ہے۔
اس سارے معاملے میں ایک اور اہم سوال خیبر پختونخوا کے سیاسی کردار کا ہے۔ ایک صوبے کی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان سیاسی اختلاف اگر مسلسل بڑھتا جائے تو اس کے اثرات صرف سیاست تک محدود نہیں رہتے۔ انتظامیہ، معیشت، امن و امان اور عام شہری کی روزمرہ زندگی بھی اس کشمکش سے متاثر ہو سکتی ہے۔
اسی تناظر میں پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے سرکاری وسائل کے مبینہ سیاسی استعمال کے معاملے پر جواب طلب کرنا بھی قابلِ ذکر ہے۔ عدالت کے سامنے اس بارے میں مؤقف اور جواب آنے کے بعد ہی قانونی پہلو زیادہ واضح ہوگا، اس لیے اس معاملے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
پاکستان میں سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ سڑکوں پر ہونے والی تحریکیں کبھی صرف چند دنوں کی خبر نہیں رہتیں۔ بعض اوقات وہ مذاکرات کی میز تک پہنچتی ہیں، کبھی سیاسی اتحادوں کو جنم دیتی ہیں اور کبھی حکومتوں کو اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلسل سیاسی محاذ آرائی ملک کے اداروں اور عوام دونوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
اس لیے آج سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ لانگ مارچ کامیاب ہوگا یا ناکام۔
اصل سوال یہ ہے کہ اس لانگ مارچ کے بعد پاکستان کی سیاست کس سمت جائے گی؟
کیا حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے؟
کیا عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کسی سیاسی سمجھوتے کا حصہ بنے گا؟
کیا خیبر پختونخوا اور وفاق کے درمیان کشیدگی کم ہوگی؟
یا پھر سیاسی اختلاف مزید سڑکوں پر منتقل ہوگا؟
ان سوالات کے جواب ابھی آنے والے دنوں میں سامنے آئیں گے
لیکن ایک بات واضح ہے: پاکستان کو اس وقت صرف سیاسی جوش نہیں، سیاسی تدبر بھی درکار ہے۔ احتجاج کا حق اپنی جگہ، اختلاف کا حق اپنی جگہ، حکومت کی ذمہ داری اپنی جگہ اور اپوزیشن کا کردار اپنی جگہ۔
جمہوریت کی اصل کامیابی اس میں نہیں کہ کون زیادہ بڑا ہجوم اکٹھا کر لیتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ اختلاف کے باوجود ملک کا نظام آئین، قانون اور سیاسی مکالمے کے راستے پر قائم رہے۔
پشاور سے چلنے والا یہ قافلہ آج چارسدہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کل مردان ہوگا، پھر صوابی۔
مگر اصل سفر شاید سڑکوں پر نہیں، سیاست کی میز پر ہونا ہے۔
کیونکہ قومیں صرف نعروں سے نہیں، مکالمے، آئین، قانون اور سیاسی بصیرت سے آگے بڑھتی ہیں۔
اور شاید آج کے اس شور میں پاکستان کے مستقبل کی سب سے اہم آواز یہی ہے:
اختلاف ضرور ہو، مگر راستہ ایسا ہو جس میں ملک نہ ہارے